درخت قدرت کا ایک
انسان دوست عطیہ
دید
گرمی اور حبس کے دنوں یا اوقات میں اگر کہیں ہمارا گزر کسی پارک‘
سرکاری دفتر‘ کالج‘ یونیورسٹی یا کسی بھی ایسی جگہ سے ہو
جائے جہاں درختوں کا جھنڈ ہو تو یکایک فضا میں خوشگوار تازگی کا احساس ہوتا ہے‘
آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل و دماغ کو سکون محسوس ہونے لگتا ہے اور جونہی ہم اس مقام
سے گزر جاتے ہیں تو وہی حبس سی کیفیت پھر سے دامن گیر ہو جاتی ہے۔
سی طرح کی کیفیت اس وقت بھی محسوس ہوتی ہے جب ہمارا گزر سٹی سے
نکل کر کینٹونمنٹ بورڈ کے علاقوں سے ہو ‘ جہاں موجود ہر طرف سبزہ اور درخت ہر گزرنے
والے کو ایک خوشگوار احساس دیتے ہیں۔ صاف ستھری سڑک یا شارع کے اطراف میں سبزے کی
بیلٹ‘ پھولوں کی کیاریاں اور مناسب فاصلوں پر سایہ دار درخت ۔۔۔ وہاں ٹھہرنے یا
سستانے کا وقت نہ بھی ہو‘ تب بھی بس صرف وہاں سے گزر آنے سے ہی موڈ خوشگوار اور
جسمانی ذہنی تھکاوٹ رفع ہوتی محسوس ہوتی ہے۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ ملک بھر کے 156 اضلاع یا 404 تحصیلوں
کو کینٹونمنٹ بورڈز کا درجہ دے دیا جائے‘ مگر ایسا تو کیاجا سکتا ہے کہ ضلع اور
تحصیل سطح کے سرکاری افسران کی کینٹ بورڈز کے افسران کی طرز پر باقاعدہ ٹریننگ کا اہتمام
کیا جائے جو اپنی دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ باقاعدہ اور منظم انداز میں اپنے
ضلع یا تحصیل میں شجرکاری کریں تاکہ پاکستانی عوام بالخصوص شہری آبادی کو
ماحولیاتی اور فضائی آلودگی سے بچایا جا سکے۔
جنگلات کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد ہونا چاہئیں جبکہ
پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق صرف4.8 فیصد رقبے پرجنگلات ہیں اور وہ بھی شدید
انتظامی بدحالی اور کرپشن کی وجہ سے مسلسل تباہ ہو رہے ہیں۔
جنگلات کی کٹائی کا نقصان‘ ماحولیاتی آلودگی‘ بارشوں میں کمی‘
سیلاب و گرمی کی شدت میں اضافہ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں
نظر آ رہا ہے۔
فصلوں کے اطراف درخت ان فصلوں کو موسم کی سختیوں سے محفوظ
رکھتے ہیں‘ مگر اب تو صورت حال اور زیادہ گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ کہ فصلوں‘ کھیتوں
کے اطراف درخت اگانا رہا ایک طرف‘ خود یہ زرعی زمینیں تیزی سے مکانات‘ مارکیٹوں‘
پلازوں اور فیکٹریوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔
انتظامیہ اور عدالت عظمیٰ کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لے کر
ٹھوس منصوبہ بندی کرنی چاہئیے۔ ملک بھر میں زرعی زمینوں کی تخصیص کے ساتھ ان پر
رہائشی کالونیوں یا فیکٹریوں کے قیام پر پابندی کا قانون آنا چاہئیے‘ جس پر عمل
درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
ملتان میں آم کی بیلٹ میں سینکڑوں ایکڑ اراضی پر DHA کا قیام انتہائی
تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے‘ ملتان کو سرکاری سطح پر ’’مینگوسٹی‘‘
ڈکلیئر کرنے کے بعد ضروری تھا کہ دنیا بھر میں پاکستان
کی پہچان پاکستانی آم کی حفاظت اور پیداوار میں اضافہ کیلئے ٹھوس منصوبہ بندی کی
جاتی‘ اس کے برعکس ملتان میں آم کے پیداواری علاقے تیزی سے‘ انتہائی تیزی سے یکے
بعد دیگرVIP کالونیز میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں‘
شہر میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کے اطراف 10 سے 15 کلو میٹر کا علاقہ جہاں آج
سے 4-3 سال پہلے تک آموں کے باغات ہوا کرتے تھے اب وہاں مکانات‘ کوٹھیاں اور پلازے
نظر آتے ہیں۔
ہیڈ محمد والا اور اطراف کے روڈز کی تعمیر یقیناً عوامی فلاح میں
ایک قابل تعریف اقدام ہے جس سے آمد و رفت میں سہولت کے ساتھ باغات اور کھیتوں سے
پھلوں اور سبزیوں کی منڈیوں تک نقل و حمل آسان ہو گئی ہے۔ ضروری تھا کہ روڈز کی
تعمیر کے ساتھ ہی اطراف میں موجود زرعی زمینوں‘ بالخصوص آموں کے باغات کو قائم
رکھنے کیلئے ضروری منصوبہ بندی کی جائے۔
ماضی میں جس طرح سندھ ہائیکورٹ نے سندھ حکومت کی جانب سے سجاول
اور دیگر اضلاع کی 21 ہزار ایکڑ جنگل اور زرعی زمین کو انڈسٹریل زون قائم کرنے
کیلئے الاٹ کرنے پر حکم امتناعی جاری کیا تھا‘ اسی طرح حکومت پاکستان اور عدالت
عظمیٰ کو بھی فوری طور پر ملک بھر میں زرعی زمینوں کی حفاظت کیلئے عملی اقدامات کرنے
چاہئیں اور ملتان سمیت جہاں کہیں ایسے رہائشی یا صنعتی منصوبے ابھی تیاری میں ہیں
انہیں فوری طور پر بنجر یا صحرائی علاقوں میں منتقل کیا جائے اور جو منصوبے مکمل
ہوچکے ہیں تو ان کی انتظامیہ کو نہ صرف یہ کہ ان رہائشی یا صنعتی منصوبوں کے اندر
اور اطراف میں زیادہ سے زیادہ درختوں کے اگانے بلکہ کسی اور مناسب جگہ پر کاٹے گئے
درختوں کے برابر درخت اگانے اور ان کی حفاظت کا پابند کیا جائے۔
میری تجویز ہے کہ حکومت پاکستان اور تمام صوبائی حکومتوں کو
فوری طور پر ملک بھر میں جنگلات کی حفاظت اور زرعی زمینوں کی تخصیص کے ساتھ ہی
صنعتی اور معاشرتی ضرورت کے استعمال کی لکڑی کے حصول کیلئے مخصوص پیداوار ی زون
قائم کرے‘ جہاں ضرورت کے مطابق فصلوںاور مال مویشیوں کے فارمز کی طرز پر مستقل طور
پر جنگلات کی پیداوار کا منظم انتظام ہو۔
اسی طرح نہ صرف موجودہ انڈسٹریل زونز میں شجرکاری مہم کا آغاز
کیا جانا چاہئیے۔ بلکہ آئندہ کے لئے کسی بھی انڈسٹریل زون کے قیام یا کسی بھی
فیکٹری کے لائسنس کے اجراء کے وقت ایک مخصوص تعداد میں درخت اُگانے کی قانونی
پابندی ہونی چاہئیے۔
اسی طرح ملک بھر کے تمام اضلاع اور تحصیلوں کے ڈپٹی کمشنر‘
اسسٹنٹ کمشنرز اور سرکاری اداروں کے سربراہان کو پابند کیا جائے کہ اپنے اپنے ضلع
‘ تحصیل اور دفتر میں بڑے پیمانے پر درخت اگائے جائیں اور اسی سلسلے میں عوامی
شعور کے لئے باقاعدہ مہم چلا کر انہیں بھی اس کارخیر میں عملاً شریک کیا جائے۔
مزید برآںNHA (نیشنل ہائی ویز اتھارٹی) موٹرویز انتظامیہ اور محکمہ انہار کو پابند
کیا جائے کہ ملک میں موجود ہزاروں کلومیٹر طویل سڑکوں اور نہروں کے کنارے درخت کو
اگانے اور ان کی حفاظت کا انتظام کیا جائے تاکہ قدرت کے اس انمول تحفے کو بچایا جا
سکے اگر جنگلات صفحہ ہستی سے مٹ گئے تو انسانی زندگی کا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔
آج ہم سب گرمی کی شدت میں بے پناہ اضافے‘ آندھیوں‘ سیلاب‘ بارش
کی کمی اور سیم و تھور سے پریشان ہیں ان اَن گنت مسائل کا ایک ہی حل ہے۔ درخت
یہ درخت ہی ہیں جن سے آکسیجن حاصل ہوتی ہے اور جو ماحول کو
خوشگوار اور صحت افزاء بنا کرگرمی کا زور توڑنے اور آبی بخارات بنا کر بارش کا سبب
بنتے ہیں گویا درخت قدرت کا ایک انسان دوست عطیہ‘ ہیں۔ ہمیں بحیثیت مجموعی اس حقیقت
کا ادراک کرنا ہو گا کہ قدرت کے اس بیش بہا خزانے کا تحفظ ہم سب کی قومی اور مذہبی
ذمہ داری ہے جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے جو مسلمان کوئی پودا لگاتا یا
کھیتی بوتا ہے اور اس سے کوئی پرندہ یا انسان کھاتا ہے تو وہ اس کے لئے صدقہ جاری ہے۔


No comments:
Post a Comment